MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کو

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کو
آخری کہتا ہے کیوں تابوت کی ہر کیل کو

خود ضرورت مند ہے روتا ہے خود ترسیل کو
چاہیے پیغامبر اپنے لیے جبریل کو

کب سے سوتا ہے کرو بیدار میکائیل کو
ورنہ کافی کام مل جائے گا عزرائیل کو

تو نے گو کوئی کسر چھوڑی نہیں رب کریم
کام یہ کرنا پڑے گا پھر بھی اسرافیل کو

شہر کے قانون دن میں توڑنا آساں نہ تھا
رات میں نکلی ہے دنیا علم کی تحصیل کو

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم