MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھ

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھ
یہ کون سا ستم ہے دل مبتلا کے ساتھ

اب وہ جبین شوق کہیں اور کیوں جھکے
وابستہ ہو گئی جو ترے نقش پا کے ساتھ

وارفتۂ جمال کا عالم نہ پوچھئے
دیوانہ وار اٹھتی ہیں نظریں صدا کے ساتھ

سرخی تمہارے ہاتھ کی کہتی ہے صاف صاف
شامل ہے میرے دل کا لہو بھی حنا کے ساتھ

تکمیل آرزو کی خوشی اور غم حیات
دونوں ہی ابتدا سے رہے انتہا کے ساتھ

شامل مری حیات میں یوں ہے غم حیات
جیسے خبر ہو اپنے کسی مبتدا کے ساتھ

وصفیؔ مری حیات نے منزل کو پا لیا
کچھ دن گزار آیا جو اک پارسا کے ساتھ

عبدالرحمان خان بہرائچی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم