MOJ E SUKHAN

جب خیال آیا مجھے تیرے رخ پر نور کا

جب خیال آیا مجھے تیرے رخ پر نور کا
پھر گیا نقشہ میری آنکھوں میں چشم طور کا

آبلے پڑنے لگے پائے خیال و فکر میں
ہے یہ عالم آتش غم سے دل محرور کا

ایک نظر میں جس نے لاکھوں کو کیا بے ہوش و مست
دیکھنے والا ہوں میں اس نرگس مخمور کا

جز ملال و حزن و اندوہ و ہراس و درد و غم
اور کوئی اب نہیں مونس دل رنجور کا

فخر یہ ہے میں شہ وارثؔ کے در کا ہوں فقیر
مرتبہ اوگھٹؔ نہیں جو قیصر و فغفور کا

اوگھٹ شاہ وارثی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم