MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہجر زادوں کو بھی خوشحال بنا دیتی ہے

ہجر زادوں کو بھی خوشحال بنا دیتی ہے
سرخئ شام ترے گال بنا دیتی ہے

بیٹھ جاتے ہیں ملنگ اپنی کہانی لے کر
بھوک درگاہوں کو چوپال بنا دیتی ہے

اس لیے تم کو پریشان نہیں لگتا ہوں
ماں کی عادت ہے مرے بال بنا دیتی ہے

جانے والے ابھی اوجھل نہیں ہونے پاتے
دھول وحشت کے خد و خال بنا دیتی ہے

اک نظر ہوتی ہے کہتے ہیں جسے بد نظری
اک نظر ہوتی ہے لجپال بنا دیتی ہے

کوچہ ء عشق تری خاک کے کیا کہنے ہیں
سر میں پڑتی ہے تو ابدال بنا دیتی ہے

ہم وہ احساس کے مارے ہوئے حاتم, ساجد
اک سخاوت جنہیں کنگال بنا دیتی ہے

لطیف ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم