MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا

زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا
بات کیا تھی میں خفا جس پر زمانے سے ہوا

ایک پل میں اک جگہ سے اتنا روشن آسماں
کوئی تارہ بنتے بنتے ٹوٹ جانے سے ہوا

سوچتا رہتا ہوں میں اکثر کہ آغاز جہاں
دن بنانے سے کہ پہلے شب بنانے سے ہوا

میں غلط یا تم غلط تھے چھوڑو اب اس بات کو
ہونا تھا جو کچھ وہ جیسے اک بہانے سے ہوا

کچھ زمانے کی روش نے سخت مجھ کو کر دیا
اور کچھ بے درد میں اس کو بھلانے سے ہوا

بات ساری اصل میں یہ تھی میں اس سے بد گماں
اک تعلق میں کہیں پہ شک کے آنے سے ہوا

بچ ہی نکلا ہوں میں جاڑے کی بڑی یلغار سے
گرم اب کے گھر بدن کا خس جلانے سے ہوا

کیا کہوں میری گرفتاری کا کوئی اہتمام
کیسے زیر دام رکھے ایک دانے سے ہوا

عمر بھر کا یہ جو ہے شاہیںؔ خسارہ یہ مجھے
ایک سودے میں کوئی نیکی کمانے سے ہوا

جاوید شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم