وہ ایک خواب جو اس نے کبھی دکھایا تھا
وہ مرتے دم بھی میری آنکھ میں سمایا تھا
اندھیری رات میں چمکا وہ چاند ہو جیسے
سلگتی دھوپ میں وہ بادلوں کا سایا تھا
وہ ایک پل کہ ہنسے جس میں بے تحاشا ہم
اس ایک پل نے ہمیں عمر بھر رلایا تھا
جو آج سائے میں بیٹھے ہیں چین سے بچے
درخت میں نے ہی آنگن میں وہ لگایا تھا
ہیں کتنے روپ تمھارے تمھیں پتہ تو چلے
یہ سوچ کر ہی تمھیں آئینہ دکھایا تھا
ابھی بھی یاد ہیں تیری وہ شک بھری نظریں
اور ان کے بعد ہی تو نے مجھے گنوایا تھا
ہے بازگشت سماعت میں آج تک اس کی
جو شعر تم نے مجھے دیکھ کر سنایا تھا
کسی کے حکم کی تابع تھی سانس بھی میری
مرا وجود مرا ہو کے بھی پرایا تھا
پتہ چلا وہ تعلق ہے چند لفظوں کا
بڑے جتن سے جسے عمر بھر نبھایا تھا
پروفیسر رضیہ سبحان