MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غم دنیا کے یاد جب آئیں اس کی یاد بھی آنے دو

غم دنیا کے یاد جب آئیں اس کی یاد بھی آنے دو
اک نشے میں اور اک نشہ اے یارو مل جانے دو

آخر ہم کو اپنے حال پہ خود رونا خود ہنسنا ہے
یارو اب کچھ دیر تو ٹھہرو تھوڑی تاب تو لانے دو

مرجھانے سے پہلے دل کو ایک ہنسی کی حسرت کیوں
بند کلی کو کچھ بھی نہیں تو ایک تبسم پانے دو

کس انمول پشیمانی کی دولت ہے ان آنکھوں میں
پلکوں پر دو آنسو جھمکیں موتی کے سے دانے دو

اس دلبر کو پیاس ہماری کچھ تسکین تو دیتی ہے
جس نے ہم پر کھول دئے ہیں آنکھوں کے مے خانے دو

ہم بھی اپنا ہوش گنوا کر سب کے جیسے ہو جائیں
کھل ہی گئی ہے جب بوتل تو بھر کے دو پیمانے دو

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم