شعر کی شکل میں الہامِ غضنفر آیا
اپنی مٹھی میں تو تابش کے مقدر آیا
کھوج میں آب کی ریتوں کو نچوڑا ہم نے
پھر یہ دہلیز پہ خود چل کے سمندر آیا
اس کے ہمسر کو جو چوپال پہ باندھا سب نے
پاؤں پیدل یہاں بستی میں ستمگر آیا
اپنے مالک کو زمانے سے بچانے کے لئے
گھر کی چھت پر مرے اڑا اڑ کے کبوتر آیا
اپنے کرتال سے الفت کا ترانہ چھیڑا
آج بستی میں نئے ڈھب سے قلندر آیا
اپنے حالات کو دنیا سے چھپا کر رکھا
راز دل اپنا بتانے کو ئی چھت پر آیا
آج تابش نے بھی میخانے میں ناچا جم کر
ہاتھ اس کے بھی ہے اس ٹھنڈ میں ساغر آیا
تابش رامپوری