MOJ E SUKHAN

زندگی تجھ سے بچھڑ کر میں جیا ایک برس

زندگی تجھ سے بچھڑ کر میں جیا ایک برس
زہر تنہائی کا ہنس ہنس کے پیا ایک برس

اک اندھیرے کا بھنور تھا مرا ماحول مگر
کام اشکوں سے چراغوں کا لیا ایک برس

کسی آندھی کسی طوفاں سے بجھائے نہ بجھا
دل میں جلتا ہی رہا غم کا دیا ایک برس

پھر کہیں مجھ کو ملا ہے مرے جینے کا صلہ
میں یہاں ہوکے رہا خود سے خفا ایک برس

ایک لمحہ بھی گوارا نہ تھا فرقت کا سروشؔ
یہ بھی کیا کم ہے ترے غم میں جیا ایک برش

رفعت سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم