MOJ E SUKHAN

یہ سانحہ بھی دیکھا ہے ہم نے نصیب سے

یہ سانحہ بھی دیکھا ہے ہم نے نصیب سے
اس نے سلام بھیجا ہے ہم کو رقیب سے

نازاں تھے اپنے حسن پہ گل یہ گلاب کے
دیکھا نہیں تھا آپ کو جب تک قریب سے

لے دیکھ سارے شہر میں چرچا ہے وصل کا
کس نے کہا تھا راز اگل دے خطیب سے

اب تو دیا جلانا لہو سے ہے لازمی
ان دھیرے چھا رہے ہیں جو ہر سو مہیب سے

ان کے لبوں پہ حرف تشفی کے آ گئے
لگتا ہے حال پوچھ لیا ہے طبیب سے

تعبیر کے خیال سے لرزاں ہوں آج کل
دیکھے ہیں خواب میں نے عجیب و غریب سے

سید غضنفر علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم