MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تم اگر میرے نہیں ہو تو جتاتے کیوں ہو

تم اگر میرے نہیں ہو تو جتاتے کیوں ہو
پیار جھوٹا یہ زمانے کو دکھاتے کیوں ہو

خون ہی تم کو بہانا ہے تو کاٹو سر کو
زخم دل پر اے مرے یار لگاتے کیوں ہو

اس سے بہتر ہے کہ دنیا سے مٹا دو مجھ کو
نام لکھ لکھ کے ہتھیلی پہ مٹاتے کیوں ہو

ذکر آتا ہے وفاؤں کا اگر محفل میں
یہ بتاؤ کہ مرا نام چھپاتے کیوں ہو

دیکھتے ہی مجھے نظروں کو چرانے والو
میری تصویر کو سینے سے لگاتے کیوں ہو

میرے آنے پہ ہے محفل میں تماشہ کیسا
میں چلی جاؤں گی کہرام مچاتے کیوں ہو

تم کو سچّائی کا گر خوف نہیں ہے صاحب
پھر یوں آواز کو وشمہ کی دباتےکیوں ہو

وشمہ خان وشمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم