MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے

نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے
وگرنہ دہر تو اہل وفا سے خالی ہے

حریم دل میں تری آرزو نے روشن کی
وہ آگ جس نے شب زندگی اجالی ہے

تری نگاہ کرم ہے وگرنہ اے غم دوست
زمانہ کیا ترے شیدائیوں سے خالی ہے

ستم ہے میری طرف پیار سے نظر نہ کرے
وہ بت کہ جس میں مرے فن نے جان ڈالی ہے

بجا کہ حسن کا احساس ہے فریب نظر
مگر وہ نقش جو دل میں ہے کب خیالی ہے

افق سے گرد چھٹے تو خبر ملے شاید
سحر طلوع ہوئی ہے کہ ہونے والی ہے

اب اہل بزم غم تیرگی کریں تو کریں
ہمارے پاس تو جو شمع تھی جلالی ہے

ہوا کے دوش پہ اڑتی ہوئی خبر تو سنو
ہوا کی بات بہت دور جانے والی ہے

حسن جلیل اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم