جس کا بھی انتساب ہوتا ہے
وہ تو عالی جناب ہوتا ہے
یہ ہے بازار عشق کی بیٹھک
اس جگہ دل خراب ہوتا ہے
یار !آنکھوں سے پینے والوں کا
سچ میں خانہ خراب ہوتا ہے
ھائے جاناں ،عجیب وحشت ہے
یہاں سب کچھ شتاب ہوتا ہے
دل کے بارے میں پوچھنے والے!
دل پہ ازحد عتاب ہوتا ہے
در بدر ہو رھا ہے جو یارو
آخرش بازیاب ہوتا ہے
جو زمانے کی رسم پوری کرے
آدمی کامیاب ہوتا ہے
نہ سہی اس جہاں میں، پر ناہید
اس جہاں میں حساب ہوتا ہے
ناہید علی