MOJ E SUKHAN

جس کا بھی انتساب ہوتا ہے

جس کا بھی انتساب ہوتا ہے
وہ تو عالی جناب ہوتا ہے

یہ ہے بازار عشق کی بیٹھک
اس جگہ دل خراب ہوتا ہے

یار !آنکھوں سے پینے والوں کا
سچ میں خانہ خراب ہوتا ہے

ھائے جاناں ،عجیب وحشت ہے
یہاں سب کچھ شتاب ہوتا ہے

دل کے بارے میں پوچھنے والے!
دل پہ ازحد عتاب ہوتا ہے

در بدر ہو رھا ہے جو یارو
آخرش بازیاب ہوتا ہے

جو زمانے کی رسم پوری کرے
آدمی کامیاب ہوتا ہے

نہ سہی اس جہاں میں، پر ناہید
اس جہاں میں حساب ہوتا ہے

ناہید علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم