MOJ E SUKHAN

ہاں اپنے آپ کو خود میں چھپا لیتا ہوں میں اکثر

ہاں اپنے آپ کو خود میں چھپا لیتا ہوں میں اکثر
زمانے کی ہواؤں سے بچا لیتا ہوں میں اکثر

ضمیر و دل کو بھی تنہا بٹھا کر سامنے اپنے
انوکھی سی کوئی محفل سجا لیتا ہوں میں اکثر

ہاں اپنی آس کی ہر شب اندھیروں میں ڈبونے کو
دیے اس سوچ کے سارے بجھا لیتا ہوں میں اکثر

جہاں کی شورشوں سے جب بھی لگتا ہے مجھے ڈر تو
نئی دنیا کوئی دل میں بسا لیتا ہوں میں اکثر

کہانی پوچھتا ہے کوئی گر فرہاد و مجنوں کی
اسے اپنی کہانی ہی سنا لیتا ہوں میں اکثر

اٹھائے نفرتوں کی کوئی گر دیوار تو اس میں
دریچہ پیار کاکوئی بنا لیتا ہوں میں اکثر

کبھی جو ہجر اس کا جاگ جاتا ہے تو پھر امبر
اسے سینے کے اندر ہی چھپا لیتا ہوں میں اکثر

عبدالمجید راجپوت امبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم