MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کچھ ایسا بھی تو ہو جائے کبھی ایسا کرے کوئی

کچھ ایسا بھی تو ہو جائے کبھی ایسا کرے کوئی
بنائے خود نشیمن اور پھر صحرا کرے کوئی

تمہارے نام کے ہم راہ میرا نام لے دنیا
مرا دل چاہتا ہے پھر مجھے رسوا کرے کوئی

اگر تو مل نہیں سکتا تو کچھ تدبیر ایسی ہو
مری آنکھوں سے تجھ کو عمر بھر دیکھا کرے کوئی

خرد پر لوگ نازاں ہیں جنوں پر فخر ہے مجھ کو
جنوں سے میرے اپنی عقل کا سودا کرے کوئی

یہ فطرت کب بھلا انسانیت سے میل کھاتی ہے
سفینہ ڈوبتا ہو دور سے دیکھا کرے کوئی

وہ دل میں جاگزیں ہے مستقل ہے جلوہ فرمائی
بھلا ایسے میں پھر کس طرح سے پردا کرے کوئی

ہجوم غم سنبھلتا ہی نہیں اے شمعؔ اب مجھ سے
کبھی تو کاش ایسا ہو مجھے تنہا کرے کوئئ

سیدہ نفیس بانو شمع

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم