MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نکلی وہ زندگی سے تو پامال ہو گیا

نکلی وہ زندگی سے تو پامال ہو گیا
جیسے رواں رواں مرا کنگال ہو گیا

بگڑا ہوا ہے ہجر میں کچھ وقت کا نظام
لمحہ گزر نہ پایا کہ اک سال ہو گیا

مشکل ہے یہ حساب کئی ہجرتوں کے بعد
اچھا ہے میرا حال کہ بد حال ہو گیا

بس یوں ہی اک غزل سی اسے دیکھ کر ہوئی
پھر اس کے بعد پیار کا جنجال ہو گیا

میں جب گلاب چوم رہا تھا تو دیکھ کر
چہرہ کسی کا شرم سے کیوں لال ہو گیا

اشرف شاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم