MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے

ترے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے
میری دنیا ہے یہی مجھ کو یہیں رہنا ہے

کام جو عمر رواں کا ہے اسے کرنے دے
میری آنکھوں میں سدا تجھ کو حسیں رہنا ہے

دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ
میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے

آسماں سے کوئی اترا نہ صحیفہ نہ سہی
تو مرا دیں ہے مجھے صاحب دیں رہنا ہے

جیسے سب دیکھ رہے ہیں مجھے اس طرح نہ دیکھ
مجھ کو آنکھوں میں نہیں دل میں مکیں رہنا ہے

پھول مہکیں گے یوں ہی چاند یوں ہی چمکے گا
تیرے ہوتے ہوئے منظر کو حسیں رہنا ہے

میں تری سلطنت حسن کا باشندہ ہوں
اب مجھے اور کہیں جا کے نہیں رہنا ہے

اشفاق حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم