MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

برونِ ذات کثافت ہزار شیشہ بدن

برونِ ذات کثافت ہزار شیشہ بدن
نظر نظر سے نا خود کو گزار شیشہ بدن

یہ اعتراف کا منظر تو خواہشوں سے بھرا
نہ اپنی زلف کو ایسے سنوار شیشہ بدن

یہ حسن رنگ جوانی نہیں رہے باقی
گھڑی دو پل کی ہے باقی بہار شیشہ بدن

پرائی آگ میں جلتا ہوا رہے جیون
نہ ایسی آگ تو اندر اتار شیشہ بدن

مرے جواب سے پہلے ہی بول دے مہتاب
مرے جنوں کا مکمل قرار شیشہ بدن

ماہتاب دستی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم