MOJ E SUKHAN

چھوڑ دے آسان رستہ زندگی دشوار کر

چھوڑ دے آسان رستہ زندگی دشوار کر
جس طرف دریا چڑھا ہو اس طرف سے پار کر

ڈوب کر کشتی کبھی ابھری نہیں پاتال سے
جیتنا ممکن نہیں ہوتا ہے خود کو ہار کر

پھر نظر آئیں گے اگلی منزلوں کے پیچ و خم
دیکھ پانی میں اتر کر ہاتھ کو پتوار کر

تشنگی ویراں دریچے مفلسی آہ و بکا
اے امیر شہر اس منظر کا بھی دیدار کر

جاوید منظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم