Tamam umr tumhara khyal karty rahay
غزل
تمام عمر تمہارا خیال کرتے رہے
کہ ہاتھ مَلتے رہے اور ملال کرتے رہے
کوئی تو لے گیا ساری وراثتیں اپنی
جناب شیخ تو رنگین بال کرتے رہے
حیات و موت کا آخر معمّہ ہے کیسا
خدا سے روز یہی اک سوال کرتے رہے
فریب دے کے ہمیں حاشئے پہ کر ڈالا
ہمارے نام کا حاصل کمال کرتے رہے
پڑوسی سویا رہا بھوک سے نڈھال مرا
پہ ہم دخیرہ ء درھم ، ریال کرتے رہے
قمرؔ ہمیشہ سے دنیا کا یہ وطیرہ رہا
ہوئے جو پیدا یہاں انتقال کرتے رہے
قمرِ عالم قمرؔ qamer alam qamer