MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یار آیا تھا شب سہانی میں

Yaar Aaya Tha Shab Suhaani Main

غزل

یار آیا تھا شب سہانی میں
موڑ آیا تھا پھر کہانی میں

عکس محبوب کا لگا مجھ کو
چاند آیا نظر جو پانی میں

چھوڑ کر وہ چلا گیا پردیس
خط جو رکھے تری نشانی میں

ٹھیک نیت نہیں تھی اس کی جو
عمر گزری تھی بدگمانی میں

یاد تیری ستائے کیسے کہوں
"آگ لگتی نہیں ہے پانی میں”

اب بڑھاپے کے ہیں نشاں لیکن
خوبصورت تھے ہم جوانی میں

اب تو معصوم بھی بہت خوش ہے
جب سے آئے ہو زندگانی میں

انعام الحق معصوم صابری

Inam Ul Haq Masoom

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم