Mri Tarah say bicharna tum ko Na Raas Aaya tu kia Karo gi
غزل
مری طرح سے بچھڑنا تم کو نہ راس آیا تو کیا کروگی؟
ہر ایک پل میں تمہیں اگر میں جو یاد آیا تو کیا کروگی
ابھی تو مجھ سے ہو تم گریزاں ابھی تو مجھ سے خفا خفا ہو
قدم قدم پر تمہیں جو میرا خیال آیا تو کیا کروگی
ابھی تو مجھ کو جلا رہی ہو جو حد سے زیادہ ستا رہی ہو
اگر کسی نے تمہارا ایسے ہی دل جلایا تو کیا کروگی
ابھی غرور و انا میں گم ہو ابھی جوانی چڑھی ہوٸی ہے
یہ حسن ڈھلنے لگا کبھی جو زوال آیا تو کیا کروگی
یہ میرے لہجے میں تازگی ہے تمہارے قدموں میں شاعری ہے
کبھی جو میں نے بغاوتوں کا الم اٹھایا تو کیا کروگی؟
جو میری آنکھوں سے چھپ رہی ہو کسی کی خاطر بگڑ رہی ہو
کبھی جو تم کو اسی نے جاناں نہ منہ لگایا تو کیا کروگی؟
نٸی غزل کو تمام کر دوں یہ مصرع تیرے ہی نام کر دوں
مجھے تلاشوگی ایک دن پر نہ ہاتھ آیا تو کیا کروگی؟
طاسین سمندر
Taseen Samandar