MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ جو آنکھوں میں لۓ اپنی کوٸی جام پھرے

Yeh jo Aankhoo Main lyee apni koi jaam phiray

غزل

یہ جو آنکھوں میں لۓ اپنی کوٸی جام پھرے
اس سے کہ دو نہ سرِ بام سرِ شام پھرے

کیا یہ رسواٸی ہماری بھی نہیں ہے جاناں؟
اتنے آشفتہ سروں میں جو ترا نام پھرے

ہم تھے دیوانے فقط دید کی حسرت لے کر
تیرے کوچے کی سبھی گلیاں در و بام پھرے

ہوش رہتا ہے کہاں ایسی گھڑی میں یارو
جب کسی چھت پہ کسی شال میں گلفام پھرے

یوں تو کہنے کو بہت کچھ تھا ہمارے ہاں بھی
تیری خاطر تیری محفل میں تھے گمنام پھرے

کوٸی مقتل ہی نہ برپا ہوا اپنی خاطر
ہم ہتھیلی پہ لۓ سر کو سرِعام پھرے

ایک طاسین ہی رسوا ہے زمانے بھر میں
ورنہ ہر شخص یہاں عشق میں بدنام پھرے

طاسین سمندر

Taseen Samandar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم