Masheeat kay sabhi parday Hata kar dekh letta Hay
غزل
مشیعت کے سبھی پردے ہٹا کر دیکھ لیتا ہے
قلندر ہست میں دنیا بسا کر دیکھ لیتا ہے
جنوں حدِ ریاضت سے تجاوز کر چکا ہو جب
تو عاشق ہست کو دلبر بنا کر دیکھ لیتا ہے
کسی کو آسماں تک راستہ درکار ہوتا ہے
کوئی ہاتھوں کو جامِ جم بنا کر دیکھ لیتا ہے
کسی کو عمرِ رفتہ دے کے کرتا ہے جواں پھر سے
کسی کو گود سے مقتل میں لا کر دیکھ لیتا ہے
کسی کو زیر خنجر آزماتا ہے بہانے سے
کسی کو دشت کربل میں بلا کر دیکھ لیتا ہے
کسی کو بانٹنا پڑتی ہیں زر کی تھیلیاں لیکن
کوئی جذبے، چراغوں کو بجھا کر دیکھ لیتا ہے
صدف کو دن میں مل پائے نہ گر پرواز کی باری
پرندے رات کو اپنے اڑا کر دیکھ لیتا ہے
علی صدف
Ali Sadaf