Zeeb Deeta Nahi Banday Ka khuda Ho jaana
غزل
زیب دیتا نہیں بندے کو خدا ہو جانا
ورنہ دشوار ہے کیا خود میں فنا ہو جانا
زہر کے واسطے ممکن ہے دوا ہو جانا
تیرے بیمار کو تجھ سے ہی شفا ہو جانا
ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں اے دل لیکن
اس طرح مرنے پہ تیار بھی کیا ہو جانا
یاد کو کیوں نہ کہیں زلزلۂِ عالمِ دل
آن کی آن میں طوفان بپا ہو جانا
بدگمانی سے بچیں ہم بھی کریں گے کوشش
تم بھی آئینے سے محتاط ذرا ہو جانا
نئے احمق نئے دانا نئے شوشے نئے خبط
اسے کہتے ہیں زمانے کا نیا ہو جانا
اس نے دیکھا بھی تو دیکھے نہ گئے ہم یا رب
تھی اسی تیر کی تقدیر خطا ہو جانا
مت زباں بول کسی کی کہ میسر ہے ہمیں
آنکھوں آنکھوں میں ہر اک مطلب ادا ہو جانا
کیسے مایوس ہو وہ جس نے کبھی دیکھا ہو
بند ہوتے ہوئے دروازے کا وا ہو جانا
اپنی پروازِ تخیل بہ زمینِ غالبؔ
دیکھ کر دام پرندے کا ہوا ہو جانا
ہائے راحیلؔ سے مستغنئِ دو عالم کا
ان کی گلیوں میں پہنچنا تو گدا ہو جانا
راحیلؔ فاروق
Raheel Farooq