MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نسلِ انساں جارہی ہے کس ڈگر پر اور کہاں

Nasl e Insaan jaa rahi hay kiss Dagar pr aur kahan

غزل

نسلِ انساں جارہی ہے کس ڈگر پر اور کہاں
آدمی پر آج تو حیواں کا ہوتا ہے گماں

خون کا پیاسا ہے آدم زاد جانے آج کیوں
سانحہء کربلا برپا ہے، ہوتا ہے گماں

نفرتوں کے بیج، رنگ و نسل اور مذہب کی آڑ
ظلم و استحصال کی ہر شخص ہے اک داستاں

کچھ نہیں انسان کو انسان کی پہچان اب
لُٹ رہے ہیں قافلے، ہے خون کا دریا رواں

لُٹ رہا ہے اب سکونِ زندگی ہر شخص کا
راستے دشوار تر ہیں اور کڑا ہے امتحاں

نِرخ ارزاں ہو رہا ہے، جانِ انسانی کا اب
جانے کب پائیں گے اپنے دیس میں اب ہم اماں

کس قدر بے دین ہوتے جارہے ہیں آج ہم
اے خدا توفیق دے، تجھ سے لگائیں ہم دھیاں

ڈھونڈتے ہیں ہم درخشاںؔ، کوئی توایسا مِلے
پاک بازی فعل میں ہو اور ہو سادہ بیاں

درخشاں صدیقی

Darakhshan siddiqui

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم