Mery lyee Hayyat Ka rasta bhi Tang tha
غزل
میرے لیے حیات کا رستہ بھی تنگ تھا
جس وقت مجھ میں میں نہیں کوئی ملنگ تھا
کل رات بج رہی تھی عجب دل میں گھنٹیاں
کل رات مجھ میں معرکہ کوئی دَبنگ تھا
اس وقت میرے نام چلی آئی اک خوشی
جب میں بساطِ عجز پہ مصروفِ جنگ تھا
میں سو رہا تھا جسم کی مٹی کو اوڑھ کر
چہرے کو دیکھ کر مرے آئینہ دنگ تھا
کاندھوں پہ جب اٹھایا گیا اس وجود کو
اس وقت تار تار یہ دامِ فرنگ تھا
خوابوں سے وہ نکل کے مرے آئی سامنے
ہاتھوں کا سرخ چہرے کا کچھ زرد رنگ تھا
کل تک بنامِ عشق میں صحرائے خشک میں
خود آسماں تھا اپنے لیے خود پلنگ تھا
میں تیرگی کے جسم پہ بو آیا روشنی
کیونکہ مرا یقین مرے سنگ سنگ تھا
کوئی تو چھو کے گزرا ہے دل کے حصار کو
سر شار بوئے عشق سے کل انگ انگ تھا
موجِ نسیمی ہو گئی منسوب اس گھڑی
جب زندگی کا دائرہ بھی مجھ پہ تنگ تھا
نسیم شیخ
Naseem Shaikh