MOJ E SUKHAN
No Record Found
تُم
اس دُنیا میں تُم میری بھٹکتی ہوئی, بے راہرو زندگی اور لا حاصل خواہشوں کا مکمل ایڈریس ہو!
معظمہ نقویؔ۔
مرے خدا مجھے وہ تابِ بے نوائی دے
تیری نظروں میں معتبر نہ ہوئی
تمھارے پیار کے امرت کو خود میں گھو لوں میں
اجنبی عشق میں ہو جاتا ہے اکثر اپنا
زوروں پہ بہت اب مری آشفتہ سری ہے
آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو
کار برائے فروخت
زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا
جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے