کہا کب یہ پریشانی مجھے جینے نہیں دیتی
مرے کمرے کی ویرانی مجھے جینے نہیں دیتی
تمہاری بے وفائی کا نہیں صدمہ مجھے لیکن
تمہاری ایک نادانی مجھے جینے نہیں دیتی
نگاہوں کی لحد میں جو ابھی مدفون ہے میری
وہ صورت ایک دیوانی مجھے جینے نہیں دیتی
کسی کے عشق کی برکت برستی ہے سدا مجھ پر
کسی کی یاد مستانی مجھے جینے نہیں دیتی
جدائی میں کسی کی دل بہت بے چین رہتا ہے
کسی کی یاد مر جانی مجھے جینے نہیں دیتی
مرے اجداد کے سر کاٹ ڈالے تھے یزیدوں نے
یہی بس ایک حیرانی مجھے جینے نہیں دیتی
تمہارا منتظر ہے آج بھی آصف چلی آؤ
مرے دل کی پشیمانی مجھے جینے نہیں دیتی
سید آصف نقوی