MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہا کب یہ پریشانی مجھے جینے نہیں دیتی

کہا کب یہ پریشانی مجھے جینے نہیں دیتی
مرے کمرے کی ویرانی مجھے جینے نہیں دیتی

تمہاری بے وفائی کا نہیں صدمہ مجھے لیکن
تمہاری ایک نادانی مجھے جینے نہیں دیتی

نگاہوں کی لحد میں جو ابھی مدفون ہے میری
وہ صورت ایک دیوانی مجھے جینے نہیں دیتی

کسی کے عشق کی برکت برستی ہے سدا مجھ پر
کسی کی یاد مستانی مجھے جینے نہیں دیتی

جدائی میں کسی کی دل بہت بے چین رہتا ہے
کسی کی یاد مر جانی مجھے جینے نہیں دیتی

مرے اجداد کے سر کاٹ ڈالے تھے یزیدوں نے
یہی بس ایک حیرانی مجھے جینے نہیں دیتی

تمہارا منتظر ہے آج بھی آصف چلی آؤ
مرے دل کی پشیمانی مجھے جینے نہیں دیتی

سید آصف نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم