MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں مِلی​

ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں مِلی​
ہم جیسی چاہتے تھے وہ قُربت نہیں مِلی​

​ملنے کو زندگی میں کئی ہمسفر ملے​
لیکن طبیعتوں سے طبیعت نہیں ملی​

​چہروں کے ہر ہجوم میں ہم ڈُھونڈتے رہے​
صُورت نہیں ملی کہیں سیرت نہیں ملی​

​وہ یک بیک ملا تو بہت دیر تک ہمیں​
الفاظ ڈُھونڈنے کی بھی مُہلت نہیں ملی​

​اُس کو گِلہ رہا کہ توجہ نہ دی اُسے​
لیکن ہمیں خُود اپنی رفاقت نہیں ملی​

​ہر شخص زندگی میں بہت دیر سے مِلا​
کوئی بھی چیز حسبِ ضرُورت نہیں ملی​

​اعتبار ساجد​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم