MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھولوں کے مرجھانے تک

پھولوں کے مرجھانے تک
عشق کیا مر جانے تک

تاریکی کی سانسیں ہیں
ایک دیا جل جانے تک

میں بوڑھا ہو جاؤں گا
تیرے لوٹ کے آنے تک

سیدھا سیدھا رستہ ہے
مسجد سے میخانے تک

کون تمہیں لے آیا ہے
مجھ جیسے دیوانے تک

مت پوچھو کیا گزری ہے
آنسو انکھ میں آنے تک

سب سے ہاتھ ملاؤں گا
تجھ سے ہاتھ ملانے تک

ایک قیامت جاری ہے
ایک قیامت آنے تک

یاسر سعید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم