MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیسے نہ کہا جائے اسے کام کا منظر

غزل

کیسے نہ کہا جائے اسے کام کا منظر
آنکھوں کی ضرورت ہے در و بام کا منظر

دل ہے ہی اندھیروں کا طلبگار سو اس میں
اترے گا بہر طور کسی شام کا منظر

جس جس میں نہ آئیں گے نظر مجھ کو مرے لوگ
میں نام اُسے دوں گا فقط نام کا منظر

تب جا کے ہی ہوتی ہے ان آنکھوں کی تسلی
جب اِن کو دکھاتا ہوں میں ہر گام کا منظر

سو بار جھپک لی ہیں اُسے دیکھتے آنکھیں
میں اب بھی سحر کہہ دوں اُسے کام کا منظر

اسد رضا سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم