MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو

غزل

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو
آپ تجدید ملاقات کی باتیں نہ کرو

دل نے ہر دور میں دنیا سے بغاوت کی ہے
دل سے تم رسم و روایات کی باتیں نہ کرو

ہمتیں قافلے والوں کی نہ ہوں پست کہیں
رہرو گردش حالات کی باتیں نہ کرو

چاہئے جوش طلب میرے شکستہ دل کو
ایسے حالات میں صدمات کی باتیں نہ کرو

زندگی اور بھی تشریح طلب ہے یارو
غم کے تپتے ہوئے لمحات کی باتیں نہ کرو

کتنے ہی زخم ہرے ہیں مرے سینے میں نیازؔ
آپ اب مجھ سے عنایات کی باتیں نہ کرو

عبدالمتین نیاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم