MOJ E SUKHAN

تجھ سے بچھڑ گئی کہ جہاں سے بچھڑ گئی

غزل

تجھ سے بچھڑ گئی کہ جہاں سے بچھڑ گئی
پر لطف وادیوں کی مسافت کہاں گئی

اب بے تکان کرنے لگے آپ گفتگو
حیرت ہے وہ زبان کی لکنت کہاں گئی

اہل جنوں کے جوش محبّت کو کیا ہوا
جذبات میں وہ پہلے سی شدّت کہاں گئی

چلنے لگا ہے آدمی باطل کی راہ پے
ہادئ دو جہاں کی نصیحت کہاں گئی

آئے ہیں جب سے تیرے قدم وادئ دل میں
تنہائیوں کی دل زدہ وحشت کہاں گئی

اک بے وفا کے دام کے کھاتا ہے کیوں فریب
وہ تیری دلربائی کی عادت کہاں گئی

کیا باغباں ریاضت گلشن سے ڈر گیا
پھولوں سے تازگی و لطافت کہاں گئی

کیا بات ہے کہ چہرہ منوّر نہیں رہا
موسیٰ کے ہاٹھ کی وہ کرامت کہاں گئی

منور جہاں منور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم