MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کنبہ پرور دنیا میں بیکس کی حمایت کون کرے

غزل

اس کنبہ پرور دنیا میں بیکس کی حمایت کون کرے
جب غاصب منصف بن جائیں انصاف کی زحمت کون کرے

جو فرق سمجھتے ہیں اب تک ہندی سندھی پنجابی میں
ان عقل کے پورے لوگوں سے لڑنے کی حماقت کون کرے

جو لٹ کر آئے ہیں ان کو صبر آتے آتے آئے گا
لیکن اس بے حس دنیا میں احساس حقیقت کون کرے

کیا رہنا ایسی بستی میں ہر بات جہاں کی الٹی ہو
جب باڑ ہی کھیت کی دشمن ہو پھر اس کی حفاظت کون کرے

معلوم یہ ہوتا ہے اب تک یوسف کے برادر زندہ ہیں
جب اپنے دشمن ہو جائیں غیروں کی شکایت کون کرے

ان کھاتے پیتے لوگوں سے یہ بات کوئی پوچھے جا کر
زرداروں کی دعوت تم نے کی نادار کی دعوت کون کرے

محلوں کے سنہری پردوں میں ہر عیب ہنر بن جاتا ہے
لیکن ان دولت مندوں کو جھٹلانے کی جرأت کون کرے

ہم سب کچھ کر سکتے ہیں مگر یہ سوچ کے پھر رہ جاتے ہیں
تم لاکھ برے ہو اپنے ہو اپنوں سے بغاوت کون کرے

ابوالفطرت میر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم