MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رابطہ بن نہیں رہا راستہ بن نہیں رہا

غزل

رابطہ بن نہیں رہا راستہ بن نہیں رہا
بھیڑ کے ساتھ ہوں مگر قافلہ بن نہیں رہا

ناقۂ جاں کو روکئے دور تلک سراب ہے
اور یہ دل کہ اب تلک پیشوا بن نہیں رہا

زاد سفر نہ پوچھیے زاد سفر کے نام پر
بے نمو ایک زخم ہے آبلہ بن نہیں رہا

اتنا تو کہہ کہ ہاتھ میں اور کوئی ہنر بھی ہے
تیرا سخن ترا کفیل شاعرہ بن نہیں رہا

چارہ نہیں کوئی عبیرؔ منت غیر کے سوا
چہرہ بہ چہرہ بھی اگر واسطہ بن نہیں رہا

عبیرہ احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم