MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے

غزل

کھیت سے بچ کر گزرے بستی کو ویرانی دے
وہ دریا کیا دریا جو ساگر کو پانی دے

شعر سنا کوئی ایسا جس سے لگے بدن میں آگ
نیند اڑ جائے جس سے ایسی کوئی کہانی دے

سوکھ رہے ہیں باغ بغیچے نہریں ریت ہوئیں
اے موسم کے مالک اک موسم بارانی دے

خود بنوائے محل دو محلے ہم کو سنائے حدیث
خود تو پہنے عبا قبا ہم کو عریانی دے

توڑ گئی دم آخر پیاسی رات اماوس کی
پیارے سورج اب تو اپنے چاند کو پانی دے

کون سنے گا تیرا قصہ رونے دھونے کا
لیلیٰ مجنوں شامل کر کوئی راجا رانی دے

اب تک تم نے باقرؔ ایسے کون سے کام کیے
کس امید پہ مالک تم کو نئی جوانی دے

باقر نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم