MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب ترے ملنے کا امکان کہاں باقی ہے

غزل

اب ترے ملنے کا امکان کہاں باقی ہے
جاں پہ بن آئی ہے پر جان کہاں باقی ہے

وہ تو اک شخص تھا پہچان کا باعث ورنہ
اب بھرے شہر میں پہچان کہاں باقی ہے

درد کو ‘درد’ ہی اب کہنا پڑے گا شاید
درد کا کوئی بھی عنوان کہاں باقی ہے

چار سو ظلم و ستم, جبر و قہر برپا ہے
آج اعمال کا میزان کہاں باقی ہے

اول اول کی محبت میں فراوانی تھی
اب طبیعت میں وہ ہیجان کہاں باقی ہے

سانس لیتا ہوا آوازوں کا اک جنگل ہے
اور اِس شور میں انسان, کہاں باقی ہے

جان کھاتا ہوا نقصان سے پہلے تک تھا
اب وہ اندیشۂِ نقصان کہاں باقی ہے

عنبرین_خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم