MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نے آدمی پسند نہ اس کو خدا پسند

غزل

نے آدمی پسند نہ اس کو خدا پسند
ہے آئینے میں قید مرا آئینہ پسند

وہ چار دن بھی ہم سے نباہی نہیں گئی
وہ معتدل مزاج تھا میں انتہا پسند

وہ خود فریب شخص تھا پتھر شناس تھا
آیا نہ اس کو کوئی بھی اپنے سوا پسند

جب کوئی فرق شاہد و مشہود میں نہیں
کیسے کرے کسی کو کوئی دوسرا پسند

پوچھے ہے ہم نے کاہے کیا کفر اختیار
غفلت پسند ہے نہ ہمیں آسرا پسند

کھولی ہے جب سے آنکھ کبھی سو نہیں سکے
کیونکہ ہمیں ہے خواب میں بھی جاگنا پسند

میں بھی یہ برگ سبز بھی ماہی بھی مرغ بھی
باندھے ہوئے ہیں موت نے سارے ہوا پسند

خارج کی بات آنکھ سے آگے کی تھی مگر
سب قیدیوں کو روزن دیوار تھا پسند

آکاشؔ ایک شخص ہے اوروں سے مختلف
پہلی نظر میں ہی تمہیں آ جائے گا پسند

امداد آکاش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم