MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جتنے پانی میں کوئی ڈوب کے مر سکتا ہے

غزل

جتنے پانی میں کوئی ڈوب کے مر سکتا ہے
اتنا پانی تو مری اوک میں بھر سکتا ہے

یہ تو میں روز کنارے پہ کھڑا سوچتا ہوں
پیاس بڑھ سکتی ہے دریا بھی اتر سکتا ہے

اک دیا اور تو کچھ کر نہیں سکتا لیکن
شب کی دیوار میں دروازہ تو کر سکتا ہے

حسن ترتیب سے رکھی ہوئی یادوں کی طرف
دیکھنے والا کسی روز بکھر سکتا ہے

اس کا تتلی سا بدن دور سے دیکھا جائے
وہ کسی ہاتھ میں آتے ہوئے مر سکتا ہے

تم ذرا سوچ کے اس شخص پہ تکیہ کرنا
وہ فرشتہ نہیں وعدے سے مکر سکتا ہے

دل کو آنکھوں سے الجھنے نہیں دیتا عامیؔ
ورنہ دریا سے سمندر بھی گزر سکتا ہے

عمران عامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم