MOJ E SUKHAN

منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز

غزل

منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیز
رستہ ملا دشوار تو میں اور چلا تیز

ہاتھوں کو ڈبو آئے ہو تم کس کے لہو میں
پہلے تو کبھی اتنا نہ تھا رنگ حنا تیز

مجھ کو یہ ندامت ہے کہ میں سخت گلو تھا
تجھ سے یہ شکایت ہے کہ خنجر نہ کیا تیز

چل میں تجھے رفتار کا انداز سکھا دوں
ہمراہ مرے سست قدم مجھ سے جدا تیز

افسردگئ گل پہ بھریں کس نے یہ آہیں
چلتی ہے سر صحن چمن آج ہوا تیز

اب مجھ کو نظر پھیر کے اک جام دے ساقی
پھر کون سنبھالے گا اگر نشہ ہوا تیز

انسان کے ہر غم پہ صباؔ چوٹ لگی ہے
شیشے کے چٹخنے کی بھی تھی کتنی صدا تیز

صبا اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم