MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے

غزل

یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے
ہم کو کہاں قرار تھا تم سے ملے سنبھل گئے

دل کی کبھی سنی نہیں اور کبھی تو بے سبب
آنکھ ذرا سی نم ہوئی اس کی طرف نکل گئے

یوں ہی رہیں گے رات دن یوں ہی زمین و آسماں
تم جو کبھی بدل گئے ہم جو کبھی بدل گئے

کوئی دریچہ وا ہوا کوئی نہ آیا بام پر
آج یہ کس گلی سے ہم گاتے ہوئے غزل گئے

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم