MOJ E SUKHAN

ذرا بدلا نہیں منظر وہی ہے

غزل

ذرا بدلا نہیں منظر وہی ہے
وہی ہے دشت یہ لشکر وہی ہے

نئی ہے کچھ بدن میں بے قراری
مگر کمرہ وہی بستر وہی ہے

وہی وحشت جگاتی آنکھ اس کی
یہاں بھی دل وہی ہے سر وہی ہے

دھڑکتا کیوں نہیں ہے اس طرح دل
اگر یہ وہ گلی ہے گھر وہی ہے

وہی تلخی ہے دن آغاز ہوتے
وہی دفتر مرا افسر وہی ہے

نہیں بنتے وہ خد و خال خاورؔ
وہی ہے چاک کوزہ گر وہی ہے

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم