MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرے

غزل

راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرے
برگ کتنے آندھیوں کے پاؤں میں آ کر گرے

اے جنوں کی ساعتو آمد بہاروں کی ہوئی
دیکھنا وہ شاخچوں سے تتلیوں کے پر گرے

تم نہ سن پائے صدا دل ٹوٹنے کی اور یہاں
شور وہ اٹھا زمیں پر جس طرح امبر گرے

کون جانے کتنی یادوں سے ہوا دل زخم زخم
چاندنی برسی کہ میری روح پر خنجر گرے

منتظر ہوں غم کے اس طوفان ابر و باد میں
کب گھٹا کا شور کم ہو کب ہوا تھک کر گرے

یوں ہوا ہوں جذب جعفرؔ وقت کے طوفان میں
تہہ میں گہرے پانیوں کی جس طرح کنکر گرے

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم