MOJ E SUKHAN

درد بخشا گیا ہے سہنے کو

غزل

درد بخشا گیا ہے سہنے کو
کیسی دنیا ملی ہے رہنے کو

قافیہ تنگ ہے اگرچہ میاں
اشک کافی ہیں حال کہنے کو

اتنی اچھی نہیں ہے در بدری
سینہ حاضر ہے تیرے رہنے کو

حسب سابق وہ کہہ نہیں پائے
ہم گئے تھے جو بات کہنے کو

نجمؔ قائم ہے ضبط بھی لیکن
اشک بپھرے ہوئے ہیں بہنے کو

جی اے نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم