MOJ E SUKHAN

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی

غزل

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی
آپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئی

اڑ گئی خاک دل و جاں تو وہ رونے بیٹھے
بستیاں جل گئیں جب ٹوٹ کے برسات ہوئی

تم مرے ساتھ تھے جب تک تو سفر روشن تھا
شمع جس موڑ پہ چھوٹی ہے وہیں رات ہوئی

اس محبت سے ملا ہے وہ ستم گر ہم سے
جتنے شکوے نہ ہوئے اتنی مدارات ہوئی

ایک لمحہ تھا عجب اس کی شناسائی کا
کتنے نادیدہ زمانوں سے ملاقات ہوئی

قتل ہو جاتی ہے اس دور میں دل کی آواز
مجھ پہ تلوار نہ ٹوٹی یہ کرامات ہوئی

گاؤں کے گاؤں بجھانے کو ہوا آئی تھی
میرے معصوم چراغوں سے شروعات ہوئی

شاعری پہلے رسولوں کی دعا تھی قیصرؔ
آج اس عہد میں اک شعبدۂ ذات ہوئی

قیصر العجفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم