MOJ E SUKHAN

نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے

غزل

نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے
یہ آئینہ تری تمثال کے مساوی ہے

گئے دنوں میں جسے بدترین کہتے تھے
اب اچھا حال بھی اس حال کے مساوی ہے

نظر جھکائے پڑا ہوں میں اپنے پاؤں میں
یہ جا مرے لیے پاتال کے مساوی ہے

قسم خدا کی کسی اور پر اگر گزرے
یہ کیفیت کسی بھونچال کے مساوی ہے

سمجھ سکیں تو یہ پل پل دھڑکتا دل اپنا
شمار وقت کے گھڑیال کے مساوی ہے

مرے سوال سے لے کر ترے جواب تلک
ذرا سا وقفہ کئی سال کے مساوی ہے

تمہاری یاد کی دستک ہماری دھڑکن پر
تمہاری کی ہوئی مسکال کے مساوی ہے

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم