MOJ E SUKHAN

سر تا پا حیرت میں گم ہو جائے گا

غزل

سر تا پا حیرت میں گم ہو جائے گا
تو بھی کیا حیرت میں گم ہو جائے گا

آدمی بن جائے گا تخلیق کار
اور خدا حیرت میں گم ہو جائے گا

دیکھ کر مجھ آئینہ رو کا جمال
آئینہ حیرت میں گم ہو جائے گا

لاش کو وارث نہ پہچانیں گے اور
سانحہ حیرت میں گم ہو جائے گا

رقص میں ہوں گے در و دیوار و بام
تخلیہ حیرت میں گم ہو جائے گا

منزلیں معدوم ہو جائیں گی سب
راستہ حیرت میں گم ہو جائے گا

عقل سے بھی ماورا سوچوں گی میں
فلسفہ حیرت میں گم ہو جائے گا

کیا سے کیا اشکال بدلیں گی یہاں
کیا سے کیا حیرت میں گم ہو جائے گا

دیکھنا یہ عالم ایجاد بھی
راشدہؔ حیرت میں گم ہو جائے گا

راشدہ ماہین ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم