MOJ E SUKHAN

آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے

غزل

آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے
جاتا ہوں میں بھی سر کے تئیں روبرو لیے

گلزار یک بہ یک جو مہکنے لگا ہے یوں
سچ کہہ صبا تو پھرتی ہے یاں کس کی بو لیے

سوئے کبھی نہ ساتھ ہمارے خوشی سے تم
جاویں گے گور میں یہی ہم آرزو لیے

دیتا نہیں ہے چین الٰہی میں کیا کروں
پھرتا ہوں رات دن دل بے تاب کو لیے

آصفؔ نہ چھوڑ دست سخاوت کو زینہار
لایا ہے کچھ نہ ساتھ نہ جاوے گا تو لیے

آصف الدولہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم