MOJ E SUKHAN

رک دیکھ یار کھینچ لے تصویر وقت پر

غزل

رک دیکھ یار کھینچ لے تصویر وقت پر
اخروٹ توڑتی ہے گلہری درخت پر

شاید کہیں سے ابر کرم کا ظہور ہو
دریا پہ ایک آنکھ لگا ایک دشت پر

کھڑکی میں صبح وادیٔ کیلاش کا ظہور
اترے اودھ کی شام کسی روز تخت پر

رتھ سے ہتھیلیوں پہ اترتی ارے غضب
مخمل گھسیٹتی ہے زمین کرخت پر

گل سرخ رنگ گھاس ہری نیلگوں فلک
اے کردگار شکر ترے بندوبست پر

تخلیق کا طلسم کبھی دیکھنے چلیں
ہم آخر الزماں بھی ہیں باب الست پر

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم